وہ راستے سے ہٹا گیا تھا
دیے بھی سارے بُجھا گیا تھا
صبا کی مٹھی میں وہ تو شاید
تمام موسم تھما گیا تھا
جو وقت گزرا اداسیوں میں
وہ جانے کیا کیا سکھا گیا تھا
عجیب تھا وہ بھی داستاں گو
کہ جھوٹے قصے سُنا گیا تھا
کوئی تو آنکھیں مِری بھی دیکھے
نمی وہ جن میں بڑھا گیا تھا
وہ پھول جانے کِھلیں گے کب تک
جو کاغذوں پر بنا گیا تھا
میں ڈھونڈتا بھی اُسے کہاں تک
وہ نقشِ پا بھی مٹا گیا تھا
بچھڑ کے ہم سے وہ بے وفا تو
غموں کی بستی بسا گیا تھا
جواب خود بھی نہ دے سکا تھا
سوال ایسے اُٹھا گیا تھا
جو العطش کی صدا لگائی
کہ تیر تشنہ ہی آ گیا تھا
ادھر وہ آ کے چلا گیا تھا
تو پھر نہ مجھ سے رہا گیا تھا
وہاں کا سوچو جہاں ہے جانا
جو راز احمد بتا گیا تھا