فاخرہ بتول24 اگست 2017غزل0956
ملا دیار اسے بھی نہیں ہمیں بھی نہیں گلوں سے پیار اسے بھی نہیں ہمیں بھی نہیں
کبھی تو دل کو نصحیت کرے کوئی آ کے کہیں قرار اسے بھی نہیں ہمیں بھی نہیں
مرے بغیر کو
مزید »فاخرہ بتول17 اگست 2017نظم01057
کھیلتے کھیلتے دونوں میں سے۔ ایک نے دوجے کی گُڑیا کی نوچ لی آنکھیں
لڑکی چیخی۔ دیکھو، تم نے میری گُڑیا اندھی کر دی
اب سپنے کیسے دیکھے گی؟ لڑکا نادم ہو کر بولا
مزید »فاخرہ بتول06 جولائی 2017نظم01066
محبت ھیر کرتی ہے۔۔ محبت میں بہت سے موڑ آتے ہیں
کبھی یہ وصل کو جاگیر کرتی ہے کبھی یہ ھجر کو زنجیر کرتی ہے
لہو میں اِس کا جس پل وار چلتا ہے تو دھڑکن میں انوکھے
مزید »فاخرہ بتول06 جولائی 2017نظم01071
محبت کی کہانی کا عجب کردار ہوتا ہے کبھی خوشبو کی صورت میں
بکھرتی ہے۔۔ سنورتی ہے ہوا پہ رقص کرتی ہے
کبھی کانٹوں پہ چلتی ہے تو ننگے پیر چلتی ہے کبھی یہ تخت پر ب
مزید »فاخرہ بتول13 جون 2017نعت02700
زندگانی کا قرینہ آ گیا آمنہؑ کے گهر خزینہ آگیا
رحمتوں کی انتہا ہونے لگی پوری نبیوں کی دُعا ہونے لگی
شہرِ مکہ میں مدینہ آ گیا ابتداے پنج تنؑ ہے مرحبا
نوریوں ک
مزید »فاخرہ بتول05 جون 2017قصیدہ01796
نُصیریوں کا خدا ہو تو کوئی بات کروں یہ طُور پھر سے سجا ہو تو کوئی بات کروں
علیؑ علیؑ ہے مرا ورد ہر گھڑی لوگو! مری نماز، قضاء ہو تو کوئی بات کروں
بہت عجیب سا م
مزید »فاخرہ بتول24 مئی 2017غزل01167
مقٌدر پھر سے آڑے آ گیا نا؟ دیا خورشید سے ٹکرا گیا نا؟
کہا بھی تھا کہ پلکیں موندنا مت کسی کا خواب پھر چونکا گیا نا؟
بُھلا بیٹھے تھے جسکو تم اچانک پھر اگلے موڑ
مزید »فاخرہ بتول27 اپریل 2017غزل01276
لوگ کہتے رہے ستارہ تھا آسمانوں میں وہ اشارہ تھا
میں نے دونوں کو ہی بُھلا ڈالا کچھ محبت تھی کچھ خسارہ تھا
وصل اک خواب، آخری ہچکی عشق ہجرت کا استعارہ تھا
تم نے
مزید »فاخرہ بتول27 فروری 2017غزل01072
نیند کے شہر کو جاتے ہیں تو تھک جاتے ہیں خواب کا بوجھ اُٹھاتے ہیں تو تھک جاتے ہیں
کس طرح پلکیں اٹھا کر تری جانب دیکھیں؟ ہم تو پلکوں کو گراتے ہیں تو تھک جاتے ہیں
مزید »فاخرہ بتول21 فروری 2017غزل01036
نظر کو چار کرنا آ گیا ہے ترا دیدار کرنا آ گیا ہے
فقط اصرار کی تھوڑی کمی ہے تجھے تکرار کرنا آ گیا ہے
گلے ملتا ہے سب سےمسکرا کے عدو کو وار کرنا آ گیا ہے
یہ شکو
مزید »