فاخرہ بتول31 اکتوبر 2017غزل01007
ہمارے خواب سے بہتر۔۔ خیال بُنتا ہے عجیب شخص ہے پانی سے جال بُنتا ہے
وہ لفظ لفظ میں بُنتا ہے معجزوں کا وجود کہانیاں بھی جو دیکھو، کمال بُنتا ہے
عدوکے وار سے بچ
مزید »فاخرہ بتول30 اکتوبر 2017نظم01072
کوئی کتنا جتن کر لے محبت کم نہیں ہوتی زمانہ اِس کے آگے آہنی دیوار بن جائے
اور اُس کا ہاتھ اِک تلوار بن جائے محبت ڈر نہیں سکتی ڈرانے سے
نہیں مٹتی مٹانے سے محبت
مزید »فاخرہ بتول26 اکتوبر 2017سلام01679
شہ کا ماتم ہی نہیں شہ کی دعا ہے گریہ صورتِ کرب نہیں کرب و بلا ہے گریہ
یہ سکینہؑ کے طماچوں کی ہی تفسیر نہیں ضبط عباسؑ کا، اصغرؑ کا گلا ہے گریہ
شام میں پردہء زی
مزید »فاخرہ بتول19 اکتوبر 2017قصیدہ01913
علی ولی کی عداوت میں اس قدر نہ بڑھو علیؑ کا کھا کے علیؑ کی مخالفت نہ کرو
علیؑ کا نام نہ لوں سانس ہی نہیں آتی کمال کرتے ہو کہتے ہو یا علیؑ نہ کہو
کبھی غدیر کو
مزید »فاخرہ بتول05 اکتوبر 2017نوحہ01902
مجھے جا کر سُلانے دو سکینہؑ رو رہی ہوگی اُسے لوری سُنانے دو سکینہؑ رو رہی ہوگی
چلو اصغرؑ نہیں لوٹا، وہ پیاسا سو گیا شاید مجھے شعلے بجھانے دو سکینہؑ رو رہی ہوگی
مزید »فاخرہ بتول28 ستمبر 2017نوحہ01761
ترے واسطے ماں کوئی دُعا ڈھونڈ رہی ہے
تُو سویا ہے کربل کی گرم ریت پہ کیسے؟
زینبؑ ترا خیمے میں پتہ ڈھونڈ رہی ہے
رو رو کے یہ مادر تری تکتی ہے فلک کو
شبیرؑ نے پ
مزید »فاخرہ بتول19 ستمبر 2017قصیدہ01759
ایمان ہے اور ناطقِ قُرآن علیؑ ہے یہ بات محمد ﷺ نے ہمیں خُم پہ کہی ہے
تم ھم کو ڈراتے ہو مجالس میں ہے خطرہ؟ یہ موت کہاں ہے یہ موٌدت کی گلی ہے
اِس سانس پہ حق ھم
مزید »فاخرہ بتول12 ستمبر 2017نظم01728
چلو ساحل پہ جاکر اپنی پلکوں سے۔ سنہرا جال بُنتے ہیں
سمندر میں اُتر کر۔ سیپیوں سے کچھ سُریلے تال بُنتے ہیں
چلو اب اُنگلیوں کی نرم پوروں سے۔ ذرا خوشبو کو چُنتے
مزید »فاخرہ بتول12 ستمبر 2017غزل0970
تیری آنکھوں میں جو تصویر پرائی دیکھی ڈوبتا دل ہی نہیں دیکھا، خُدائی دیکھی
کتنا سوچا تھا لکھوں خط میں جو گزری دل پر بارہا میں نے وہ تحریر مٹائی، دیکھی
شہر والو
مزید »فاخرہ بتول06 ستمبر 2017غزل01080
آئینے میں غبار تھوڑی ہے آنکھ اب اشکبار تھوڑی ہے
دیر آنے میں کر رہا ہے وصال ھجر سر پر سوار تھوڑی ہے
یہ جو ڈوبا تو زندگی ڈوبی عشق ہے کاروبار تھوڑی ہے
کون آ ئے
مزید »