تاریخِ عالم گواہ ہے کہ نظریاتی جنگیں ہمیشہ معاشی بنیادوں پر لڑی گئی ہیں اور مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کا قیام محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک عالمی معاشی انقلاب تھا جس نے سود پر مبنی اس ساہوکارانہ نظام کی جڑیں کاٹ دیں جو صدیوں سے انسانیت کا خون چوس رہا تھا۔ مدینہ کے یہودی قبائل بنو نضیر اور بنو قریظہ محض مذہبی حریف نہ تھے بلکہ وہ اس وقت کے بینکنگ نظام کے مالک تھے جو عرب کے غریب عوام کو سود کے چنگل میں پھنسا کر ان کی زمینیں اور باغات ہتھیا لیتے تھے، جب نبی کریم ﷺ نے سود کی حرمت اور مواخاتِ مدینہ کے ذریعے ایک خود کفیل بیت المال کا تصور دیا تو یہ درحقیقت ان عالمی ساہوکاروں کی معاشی اجارہ داری پر پہلا کاری وار تھا، یہی وجہ تھی کہ مشرکینِ مکہ کی جنگی مہمات کی مالی معاونت سے لے کر قبائل کو بھڑکانے تک، ہر سازش کے پیچھے وہی سرمایہ کار تھے جنہیں اپنی تجارتی چودھراہٹ ختم ہوتی نظر آ رہی تھی۔
یہ معاشی جنگ مدینہ کے میدانوں سے نکل کر اندلس کی گلیوں اور خلافتِ عثمانیہ کے درباروں تک پھیلی ہوئی ہے، جہاں اندلس کے زوال میں معاشی کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا گیا اور سقوطِ غرناطہ کے وقت وہی قدیم حربے استعمال ہوئے جو آج ہمیں جدید معیشت کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ بھی محض ایک فوجی شکست نہیں تھی بلکہ تھیوڈور ہرتزل جیسے کرداروں نے پہلے قرضوں کے جال اور پھر اندرونی انتشار کے ذریعے اس عظیم سلطنت کو کھوکھلا کیا، جس کا مقصد فلسطین کی مقدس سرزمین پر صہیونی قدم جمانا تھا اور بدقسمتی سے مسلمان حکمران "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی اسی قدیم پالیسی کا شکار ہوئے جس نے امت کو جغرافیائی اور لسانی بنیادوں پر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
آج کے دور میں آئی ایم ایف (IMF) اور ورلڈ بینک جیسے ادارے اسی قدیم ساہوکارانہ نظام کا جدید روپ ہیں، جہاں جنگی ہتھیاروں کے بجائے "قرض کی تلوار" سے ملکوں کی خود مختاری چھینی جاتی ہے اور پاکستان جیسے ایٹمی ملک کو معاشی طور پر مفلوج کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے حقوق اور القدس کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر آواز بلند نہ کر سکے۔ جب کوئی قوم معاشی طور پر غیروں کی محتاج ہو جائے تو اس کے فیصلے ایوانوں میں نہیں بلکہ عالمی بینکوں کے دفاتر میں ہوتے ہیں اور یہی وہ غلامی ہے جس سے بچنے کے لیے قرآن نے سود کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا ہے۔
موجودہ بحران کا حل محض احتجاج یا جذباتی نعروں میں نہیں بلکہ ایک آزاد معاشی پالیسی، باہمی اتحاد اور اس قرآنی نظام کی واپسی میں ہے جو انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر خالق کی بندگی اور حقیقی معاشی آزادی عطاء کرتا ہے۔ اگر آج بھی ہم نے تاریخ کے ان اسباق سے سبق نہ سیکھا اور اپنے داخلی اختلافات کو ختم کرکے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار نہ بنے، تو معاشی جکڑ بندیوں کا یہ جال ہماری آنے والی نسلوں کے عقیدے اور غیرت دونوں کو نگل سکتا ہے۔