1. ہوم
  2. غزل
  3. شاہد کمال
  4. کوزہ درد میں خوشیوں کے سمندر رکھ دے
Shahid Kamal

کوزہ درد میں خوشیوں کے سمندر رکھ دے

کوزہ درد میں خوشیوں کے سمندر رکھ دے
اپنے ہونٹوں کو مرے زخم کے اوپر رکھ دے

اتنی وحشت ہے کہ سینے میں الجھتا ہے یہ دل
اے شب غم تو مرے سینے پہ، پتھر رکھ دے

سوچتا کیا ہے اسے بھی مرے سینے میں اتار
تجھ سے یہ ہو نہیں سکتا ہے تو خنجر رکھ دے

پھر کوئی مجھ کو مری قید سے آزاد کرے
میرے اندر سے مجھے کھینچ کے باہر رکھ دے

جل رہا ہے جو مرے خانہ جاں کے اندر
اس دئیے کو بھی کوئی طاق ہوا پر رکھ دے

اے صبا دے تو مرے سوختہ جانوں کو خراج
ان کی تربت پہ ہی کچھ برگ گل تر رکھ دے

مردہ احراف بھی کرتے ہیں تکلم شاہد
اپنا کچھ خون جگر لفظ کے اندر رکھ دے