1. ہوم
  2. غزل
  3. شاہد کمال
  4. پھر آج درد سے روشن ہوا ہے سینہ خواب
Shahid Kamal

پھر آج درد سے روشن ہوا ہے سینہ خواب

پھر آج درد سے روشن ہوا ہے سینہ خواب
سجا ہوا ہے مرے زخم سے مدینہ خواب

خزاں کی فصل میں جو رزقِ وحشتِ شب تھا
لٹا رہا ہوں سرِ شب وہی خزینہ خواب

مسافرانِ شبِ غم تمہاری خیر تو ہے
تڑخ کے ٹوٹ گیا کیوں مرا نگینہ خواب

حقیقتوں کے بھنور سے مجھے نکالے پھر
رواں کرے مری جانب کوئی سفینہ خواب

بنا دیا تری صحبت نے بے ادب ان کو
کوئی سکھائے اِن آنکھوں کو اب قرینہ خواب

کوئی تو ہو کہ جو مجھ کو فریبِ پیہم دے
وہ کوئی حسنِ حقیقت ہو یا حسینہ خواب

نشیب شب میں کوئی نوحہ کن تو رہتا ہے
یہ چشم گریہ نمناک ہے حزینہ خواب

یہ آنکھ ہے ہمہ دم گردشِ تجسس میں
تلاش کرتی ہے مجھ میں کوئی دفینہ خواب

فشار نیم شبی سے اب ان دنوں شاہدؔ
ہے چاک چاک مری جاں قبائے سینہ خواب