1. ہوم
  2. غزل
  3. شاہد کمال
  4. شکستہ جسم دریدہ جبین کی جانب
Shahid Kamal

شکستہ جسم دریدہ جبین کی جانب

شکستہ جسم دریدہ جبین کی جانب
کبھی تو دیکھ مرے ہم نشین کی جانب

میں اپنا زخم دکھاوں تجھے کہ میں دیکھوں
لہو میں ڈوبی ہوئی آستین کی جانب

ان آسمان مزاجوں سے ہے بلا کا گریز
پلٹ رہا ہوں میں اپنی زمین کی جانب

کچھ اپنے حرف کے موتی کچھ اپنے لفظ کے پھول
اچھال آیا ہوں اس نازنین کی جانب

کسے کے چشم تعاقب کی زد میں رہتا ہوں
میں دیکھتا ہوں جب اس مہہ جبین کی جانب

خود اپنے ہونے پہ مجھ کو یقین ہے لیکن
گماں سے دیکھ رہا ہوں یقین کی جانب

مصاف جاں میں کھڑا ہوں مرے عدو سے کہو
وہ دیکھتا ہے یسار و یمین کی جانب

کسی نے تھام لی بڑھ کر مرے فرس کی رکاب
کسی نے ہاتھ بڑھایا تھا زین کی جانب

خود اپنے فن کا یہ ہے نقاد
وہ دیکھتا ہی نہیں ناقدین کی جانب