1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. کس سے کہیں یہ حال جو اپنا عجیب تھا
Shaista Mufti

کس سے کہیں یہ حال جو اپنا عجیب تھا

کس سے کہیں یہ حال جو اپنا عجیب تھا
اے چارہ ساز دل سے مرے تو قریب تھا

کچھ بھی اثر یہ زہر ہلاہل نہ کر سکا
حیران مجھ پہ کتنا ہی میرا طبیب تھا

اس بزمِ دوستاں میں کوئی بھی نہ تھا مرا
جس سے رہا خلوص، مرا ہی رقیب تھا

وہ خواب جس کا رنگ سنہری رہا سدا
میرا نہ ہوسکا وہ کسی کا نصیب تھا

وہ شخص جس نے پیار کے موتی گنوا دیئے
اسباب کا نہیں، وہ نظر کا غریب تھا

حیرت نہیں جو کرچی مرا مان کر گیا
وہ بدگمان، شہرِ وفا کا نقیب تھا

اس کی نگاہِ ناز کے سب منتظر رہے
میرا فقط نہیں وہ سبھی کا حبیب تھا

اک عمر کے طویل سفر بعد یہ کھلا
منظر جو سامنے تھا وہ صورت صلیب تھا