1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. روشنیوں کا کھیل جہاں تک لے جائے
Shaista Mufti

روشنیوں کا کھیل جہاں تک لے جائے

روشنیوں کا کھیل جہاں تک لے جائے
سانس کا رشتہ اور کہاں تک لے جائے

جنگل کے اُس پار بسیرا ہے اس کا
آس اُمید کا ساتھ وہاں تک لے جائے

چاہت کے انمول سجیلے بولوں سے
ہر جذبہ، ہر خواب زباں تک لے جائے

یہ گلیاں سرسبز ہوئی ہیں یادوں سے
آنکھوں کا ہر عکس بتاں تک لے جائے

ہر رشتہ امکان کی زد میں رہتا ہے
ہرجائی کو کون مکاں تک لے جائے

لفظوں جیسے پھول کھلے ہیں باغوں میں
خوشبو کا احساس بیاں تک لے جائے

کتنے ضبط کا عالم ہوگا گلشن پر
جب گلچیں انجام خزاں تک لے جائے