1. ہوم
  2. غزل
  3. کرن ہاشمی
  4. کبھی حسنِ تخیل سے نیا آغاز دیتی ہے
Kiran Hashmi

کبھی حسنِ تخیل سے نیا آغاز دیتی ہے

کبھی حسنِ تخیل سے نیا آغاز دیتی ہے
کبھی یہ زندگی خود کو نئی پرواز دیتی ہے

خدا جانے یہ کیسی جو خلش ہے میرے سینے میں
کبھی خاموش رہتی ہے، کبھی آواز دیتی ہے

جو میں نے قید رکھا عمرِ رفتہ کی کتابوں میں
وہی اک حرفِ ناگفتہ، مجھے آواز دیتی ہے

نہ جانے کس تمنا کے تعاقب میں نکلتی ہوں
کہ ہر رستے کی ویرانی مجھے اعزاز دیتی ہے

بڑی مدت ہوئی ہے دل کو خاموشی سے بکھرے ہی
مگر اب بھی ترے لہجے کی لے، کچھ ساز دیتی ہے

کرن! اس سے کہو، اب ترکِ الفت ہی غنیمت ہے
کہ یہ وحشت تو اب مجھ کو فقط اک راز دیتی ہے