تاریخ انسانی کے مطالعہ سے یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے تزویراتی مقاصد کے حصول کے لیے ہمیشہ سے غیر روایتی ہتھکنڈے استعمال کرتی آئی ہیں۔ انیسویں صدی میں برطانیہ نے چین کی معیشت اور سماجی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے "اوپیم وار" (افیون کی جنگ) کا سہارا لیا، جس کے ذریعے نہ صرف چینی عوام کو نشے کی لت میں مبتلا کیا گیا بلکہ عسکری طاقت کے ذریعے نانجنگ اور تیانجین جیسے تذلیل آمیز معاہدات مسلط کرکے ہانگ کانگ پر قبضہ اور بندرگاہوں تک رسائی حاصل کی گئی۔
موجودہ دور میں اسی حکمت عملی کی مشابہت "ڈالر وار" میں نظر آتی ہے، جہاں امریکہ اپنی کرنسی کی عالمی حیثیت، اقتصادی پابندیوں اور قرضوں کے جال کو بطور ہتھیار استعمال کرکے دوسرے ممالک کی خودمختاری سلب کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں افغانستان سے طالبان کی واپسی اور وہاں سے افیون کی کاشت کی بلوچستان منتقلی کے حوالے سے یہ تشویشناک بحث جنم لے رہی ہے کہ کیا امریکہ اب ڈالر وار کے بجائے برطانیہ کا وہی پرانا "اوپیم وار" والا پینترا اس خطے میں آزما رہا ہے؟
یہ مفروضہ اس لیے تقویت پا رہا ہے کیونکہ بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت اسے ایران، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے ایک گیٹ وے بناتی ہے۔ افغانستان میں پوست کی کاشت پر پابندی کے دعووں کے باوجود، سرحد پار سے اس کی منتقلی اور بلوچستان کے مخصوص علاقوں میں مبینہ طور پر حکومتی مشینری کی چشم پوشی کے ساتھ کاشت، ایک گہری تزویراتی سازش کا پیش خیمہ معلوم ہوتی ہے۔
اس عمل کا مقصد بظاہر ان ممالک (ایران، روس، وسطی ایشیاء) کو افیون اور اس کے بائی پروڈکٹس کی سپلائی کے ذریعے سماجی طور پر کھوکھلا کرنا اور انہیں ایک نہ ختم ہونے والی اندرونی جنگ اور نشے کی لعنت میں مبتلا کرنا ہے، تاکہ اس پورے خطے پر امریکی اثر و رسوخ برقرار رہے۔ اوپیم وار اور ڈالر وار میں مماثلت یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں ایک عالمی طاقت نے اپنی شرائط منوانے کے لیے دوسرے ملک کی معیشت اور معاشرت پر ضرب لگائی۔ برطانیہ نے عسکری قوت سے چین کو جھکایا، جبکہ امریکہ ڈالر کی بالادستی کے ذریعے دنیا کی اقتصادی آزادی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
بلوچستان میں افیون کی کاشت کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف پاکستان کا داخلی استحکام متاثر ہو رہا ہے بلکہ یہ چین کے "بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو" (BRI) کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی تجارتی مفادات اور سیاسی برتری کی جنگ شدت اختیار کرتی ہے، تو طاقتور ممالک اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے "منشیات" جیسے ہتھیاروں کو استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ اگر بلوچستان میں افیون کی کاشت اور اس کی بین الاقوامی اسمگلنگ کو عالمی طاقتوں کی درپردہ حمایت حاصل ہے، تو یہ درحقیقت اسی نوآبادیاتی دور کی جدید شکل ہے جس نے کبھی ایشیاء کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا تھا۔ موجودہ عالمی منظر نامے میں جہاں امریکہ، روس اور چین کے درمیان سرد جنگ اپنے عروج پر ہے، وہاں بلوچستان جیسے حساس خطے کو ایک "ڈرگ کوریڈور" میں تبدیل کرنا عالمی امن کے لیے ایک تباہ کن قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
پائیدار امن اور علاقائی سالمیت کے لیے ضروری ہے کہ اس ممکنہ "اوپیم وار" کے سدباب کے لیے علاقائی ممالک مل کر ایک شفاف اور ٹھوس حکمت عملی ترتیب دیں، ورنہ تاریخ خود کو ایک بار پھر خونریزی اور تباہی کے روپ میں دہرا سکتی ہے۔