فاخرہ بتول23 فروری 2018غزل11560
ہم نے کہا تھا دل کو سنبھالا بھی کیجیے یہ کب کہا تھا یوں ھمیں رُسوا بھی کیجیے؟
دل میں اُتر گئے ھیں کہ دل سے اُتر گئے؟ فُرصت کبھی ملے تو یہ سوچا بھی کیجیے
یہ کی
مزید »کرن رباب نقوی22 فروری 2018غزل12062
ہجر نے یوں اُجاڑ دی آنکھیں جیتے جی جیسے مار دی آنکھیں
دِل نے صدقہ اُتارنے کو کہا ہم نے اُس پر سے وار دی آنکھیں
ہم نے تو سرسری سا دیکھا تھا تو نے دِل میں ہی گا
مزید »فاخرہ بتول25 جنوری 2018غزل51389
نیلا مرا وجود گھڑی بھر میں کر گیا وہ زہر کی طرح مرے دل میں اُتر گیا
پلکیں لرز کے رہ گئیں اور دیپ بُجھ گئے الزام اب کی بار بھی آندھی کے سر گیا
اب کس لئے سنبھال
مزید »فاخرہ بتول24 جنوری 2018غزل11799
عشق سر پر سوار کس کا ہے؟ وہ ہے دشمن تو یار کس کا ہے
جاؤ کہہ دو بُھلا دیا تم نے اب تمھیں انتظار کس کا ہے؟
جو بھی آیا وہ ہاتھ مَلتا گیا آخرش یہ دیار کس کا ہے؟
مزید »فاخرہ بتول05 جنوری 2018غزل11662
عشق کی یہ سزا ہے اور میں ہوں شامِ فُرقت، دیٌا ہے اور میں ہوں
ترے ہاتھوں میں ہاتھ غیروں کا ضبط کا حوصلہ ہے اور میں ہوں
تُو اکیلا کہاں ہے، تیرے لیے مرے لب پر دُ
مزید »شاہد کمال19 دسمبر 2017غزل01213
جو اس چمن میں یہ گل سر و یاسمن کے ہیں یہ جتنے رنگ ہیں سب تیرے پیراہن کے ہیں
یہ سب کرشمہ عرض ہنر اُسے کے ہیں گلوں میں نقش ترے ہی لب و دہن کے ہیں
طبیعتوں میں عج
مزید »فاخرہ بتول15 دسمبر 2017غزل01090
وہ دل کو توڑ گیا بے شعور ایسا تھا لبوں پہ آ نہیں پایا، قصور ایسا تھا
گُلاب ہاتھ سے گر کر زمین بوس ہوا نظر کا زاویہ سچ مُچ کے طُور ایسا تھا
اندھیرے موندھ کے آن
مزید »شاہد کمال24 نومبر 2017غزل01045
اپنے ہاتھوں میں لئے خنجرِ قاتل آئےخود سے لڑنے کے لئے اپنے مقابل آئے
دادِ سر دیتے رہے نخوتِ دستار کے ساتھایسے ایسے بھی یہاں شہرِ مقاتل آئے
روز ایک زخم لگاتے
مزید »شاہد کمال08 نومبر 2017غزل01475
میں کیا ہوں، کون ہوں، یہ بتانے سے میں رہااَب خود کو خود سے، خود کو ملانے سے میں رہا
میں لڑ پڑا ہوں آج خود اپنے خلاف ہیاب درمیاں سے خود کو ہٹانے سے میں رہا
ہے
مزید »فاخرہ بتول31 اکتوبر 2017غزل0977
ہمارے خواب سے بہتر۔۔ خیال بُنتا ہے عجیب شخص ہے پانی سے جال بُنتا ہے
وہ لفظ لفظ میں بُنتا ہے معجزوں کا وجود کہانیاں بھی جو دیکھو، کمال بُنتا ہے
عدوکے وار سے بچ
مزید »