شاہد کمال11 اکتوبر 2018غزل61451
عجب نہیں ہے، کہ الزام میں نہیں آتاہمارا نام کسی نام میں نہیں آتا
میں کھولتا ہوں بدن کی گرہ تسلسل سےمگرجنون کی افہام میں نہیں آتا
کسے ملال ہے زخموں کی رائیگ
مزید »فاخرہ بتول04 ستمبر 2018غزل21866
اُسکو بھولے بنا کوئی چارہ نہیں، وہ ہمارا نہیں عشق اک بار ہے یہ دوبارہ نہیں، وہ ہمارا نہیں
کوئی پھولوں سے خوشبو کو آکے چُنے، کوئی گجرے بُنے یہ محبت ہے اِس میں خ
مزید »فاخرہ بتول09 جولائی 2018غزل11308
انکار بھی نہیں ہے تو اقرار بھی نہیں وہ شخص دل لگانے کو تیار بھی نہیں
سوچا تو دور دور تلک فاصلہ ملا دیکھا تو صحن میں کوئی دیوار بھی نہیں
دونوں جگہ پہ ایک ہی من
مزید »فاخرہ بتول16 جون 2018غزل71356
بہت کٹھن ہے بھلانا مگر بھلا دینا کتاب وصل کے سارے ورق جلا دینا
وہ جانتا ہی نہیں ہے بھلا دیا ہے اسے اگر وہ لوٹنا چاھے تو پھر بتا دینا
مجھے ہے ڈر وہ مسافر پلٹ ن
مزید »فاخرہ بتول23 مئی 2018غزل132698
لوگوں سے کچھ بھید چُھپانے پڑتے ہیں درد کے کس کس دیس ٹھکانے پڑتے ہیں
سوئے رہنے میں بھی حکمت ہے پیارے! جاگو تو پھر خواب سُلانے پڑتے ہیں
البم کھول کے دیکھا تو اح
مزید »شاہد کمال02 مئی 2018غزل11643
کبھی کماں تو کبھی دار سے الجھتی ہےمری اَنا مری دستار سے الجھتی ہے
یہ کون کھینچ رہا ہے مرے لہو کی طنابزمین پھر مرے رہوار سے الجھتی ہے
عجیب رُت ہے یہ مقتل میں ج
مزید »فاخرہ بتول05 اپریل 2018غزل11508
نظر کی پارسائی مانگ لی تھی محبت انتہائی مانگ لی تھی
فقط اُسکو ہی مانگا تھا خدایا! کوئی ھم نے خدائی مانگ لی تھی؟
کہا یہ وصل کی سوغات تیری مگر اُس نے جُدائی مان
مزید »فاخرہ بتول23 فروری 2018غزل11531
ہم نے کہا تھا دل کو سنبھالا بھی کیجیے یہ کب کہا تھا یوں ھمیں رُسوا بھی کیجیے؟
دل میں اُتر گئے ھیں کہ دل سے اُتر گئے؟ فُرصت کبھی ملے تو یہ سوچا بھی کیجیے
یہ کی
مزید »کرن رباب نقوی22 فروری 2018غزل12021
ہجر نے یوں اُجاڑ دی آنکھیں جیتے جی جیسے مار دی آنکھیں
دِل نے صدقہ اُتارنے کو کہا ہم نے اُس پر سے وار دی آنکھیں
ہم نے تو سرسری سا دیکھا تھا تو نے دِل میں ہی گا
مزید »فاخرہ بتول25 جنوری 2018غزل11351
نیلا مرا وجود گھڑی بھر میں کر گیا وہ زہر کی طرح مرے دل میں اُتر گیا
پلکیں لرز کے رہ گئیں اور دیپ بُجھ گئے الزام اب کی بار بھی آندھی کے سر گیا
اب کس لئے سنبھال
مزید »