شاہد کمال13 مئی 2019غزل11494
ایسا لگتا ہے کہ لب کھول رہا ہے دیکھونوکِ نیزہ پہ وہ سر بول رہا ہے دیکھو
لفظ وہ بھی ہے جو ادراکِ سماعت میں نہیںمیرے کانوں میں وہ رس گھول رہا ہے دیکھو
مجھ میں
مزید »شاہد کمال03 مئی 2019غزل51538
صورت گردشِ پرکار الگ رکھی ہےوقت سے کھینچ کے رفتار الگ رکھی ہے
اپنے سائے سے الگ رکھا ہے سایہ اپنااپنی دیوار سے دیوار الگ رکھی ہے
اپنے کس کام کی لیجاؤ اُٹھا کر
مزید »کرن رباب نقوی29 مارچ 2019غزل11615
حد سے بڑھنے لگی ہے خاموشی اَب تو ڈسنے لگی ہے خاموشی
شور کرتا نہیں ہے تنگ زرا مُجھ سے لڑنے لگی ہے خاموشی
ایسا ماحول کر دیا اِس نے اَب کھٹکنے لگی ہے خاموشی
اُس
مزید »حماد حسن24 فروری 2019غزل201237
پھر رواں ہے تری جانب کوئی سیلاب نگر نیند سے جا گ مرے خواب نگر خواب نگر
میں نے جب کھولے تھے لنگر تو وہ فرحاں آباد اور جب لوٹ کے پلٹا تو تهہ آب نگر
اے مرے شھر ج
مزید »فاخرہ بتول12 فروری 2019غزل81573
اب کے پھولوں نے کڑی خود کو سزا دی ہوگی راہ گلشن کی خزاؤں کو دکھا دی ہوگی
جب وہ آیا تو کوئی در، کوئی کھڑکی نہ کُھلی اس نے آنے میں بہت دیر لگا دی ہوگی
جا! تری پ
مزید »خالد زاہد08 فروری 2019غزل21432
یہ وسعتِ نظر کا کمال تھا ہر طرف تو اور تیرا خیال تھا
بد گمانو کو بھی خوش گمان تھا یہ بھی کرشمہ حسن و جمال تھا
گزار تو لیا ہے تیرے بغیر بھی وہ وقت بھی گویہ وبا
مزید »فاخرہ بتول09 دسمبر 2018غزل11784
پھول، خوشبو، بہار کچھ بھی نہیں وہ نہیں تو دیار کچھ بھی نہیں
کون کس پر یقین کیسے کرے؟ چاہتوں کا معیار کچھ بھی نہیں
باخدا کچھ نہیں وفا کا صلہ دل کا یہ کاروبار ک
مزید »شاہد کمال08 دسمبر 2018غزل11359
لوٹ کر پھر وہ اسیرانِ قفس بھی آئےپھول شاخوں پہ چلو اب کے برس بھی آئے
سبز جھیلوں میں اُترنے لگے خوابوں کے پرندشاخِ مژگاں پہ تری نیند کا رَس بھی آئے
بے صدا د
مزید »فاخرہ بتول30 نومبر 2018غزل12016
درد کا کاروبار، توبہ ہے عشق سر پر سوار توبہ ہے
رات آنکھوں میں کٹ گئی ساری آپ کا انتظار، توبہ ہے
تمکو ڈر ہے تمھیں بُھلا ہی نہ دیں اے مرے غمگسار، توبہ ہے
عقل س
مزید »فاخرہ بتول14 اکتوبر 2018غزل61323
مسکرانے میں بڑی دیر لگی آزمانے میں بڑی دیر لگی
اسکو کھونے میں تو اک پل نہ لگا جس کو پانے میں بڑی دیر لگی
ھم کو بھی اس سے محبت تھی مگر یہ بتانے میں بڑی دیر لگی
مزید »