سعدیہ بشیر01 جون 2023غزل25775
ہاتھوں میں دل کے آ گئے قیدی دماغ کےتاروں کے رقص میں نہیں منظر صباغ کے
قائل نہ کر سکے تھے وہ اجلے فریب سے ہم رنگ گھولتے رہے، داعی وہ داغ کے
معذور اس قدر تھے کہ
مزید »سعدیہ بشیر26 مئی 2023غزل14775
یا رب تری زمین تو صدموں سے بھر گئی روشن سے دن میں دشت کی وحشت اتر گئی
تعبیر تھی جو عاقل و باصر نہ رہ سکی تدبیر اب کے ایک بھی کب کارگر گئی
مفلس کے خواب بھوک می
مزید »سعدیہ بشیر07 اپریل 2023غزل12769
کچھ تقاضے لیے، کچھ بہانے لیے دل کی وحشت سوا، چار خانے لیے
چاند تارے لیے رات آدھی رہی ایک آنسو گرا، سو فسانے لیے
وہ بصارت تو ان کی نظر لے گئی آستاں سے گئے، آس
مزید »حامد عتیق سرور05 مارچ 2023غزل1637
بس کر دو اب یہ خواب دکھانے، بڑے بڑےپہچانتے ہیں، ہم، یہ فسانے، گھڑے گھڑے
دھمکا چکے ہو، تیر چلاو جو چل سکےتنگ آچکے ہیں، لوگ، نشانے پڑے پڑے
خلقت خدا کی جان سے جا
مزید »حامد عتیق سرور22 فروری 2023غزل8818
ایک ٹھُس، ایک ٹھَس اور بسجیل چودہ برس اور بس
ہم پہ قرضہ ہے دو سو اربہم نے دینے ہیں دس اور بس
کیرئیر، مرد - پچیس سالہیروئین دس برس اور بس
خوف دل میں رہا جاگزی
مزید »حامد عتیق سرور20 فروری 2023غزل11166
ایک برس میں سیدھے کر دئیے گھر کے تیور سبساس، سسر اور نندیں وندیں، شوہر ووہر سب
اپنا آپ بچایا چھت پر، مشکل سے مستوررات کو لے گئی، آندھی واندھی، بستر وستر، سب
ش
مزید »حامد عتیق سرور31 جنوری 2023غزل1605
نظر سے جاناں کی، دیگراں کو، چھپا کے رکھنا، کمال یہ ہے خبر نکلتے ہی سر کو قدموں میں جا کے رکھنا، کمال یہ ہے
تمہاری زلفوں کی زیب و زینت تو صرف کثرت کا معجزہ ہےکہ
مزید »حامد عتیق سرور12 جنوری 2023غزل1617
شرح این قصہ مگر شمع برآرد بہ زباں اس سے ہوتا رہا مجبوریء الفت کا بیاں
وہ جو چاہے تو کبھی بات کرے، لب کھولےہجر کا بھید کہے، وصل کا عقدہ کھولے
شمع، درماندگیء عش
مزید »حامد عتیق سرور28 دسمبر 2022غزل1585
گلی کے موڑ پہ رکھا، دیا، کسی کا نہیں ہوا جو سب کا، وہ آخر رہا کسی کا نہیں
کسے دوام یہاں ہے؟ یہ ہم، یہ تم، کیا ہیں؟ کہ عشق ختم کریں، فیصلہ کسی کا نہیں
یہ حسنِ
مزید »حامد عتیق سرور26 دسمبر 2022غزل1565
یوں تو کہتا ہے کچھ خفا نئیں ہے بارے پہلے سا ماجرا نئیں ہے
یوں نہیں ہے کہ چاہتا نئیں ہے اس کا اک دل پہ اکتفا نئیں ہے
مہرباں، خوش ادا، حسیں، دل کش وہ سبھی کچھ ہ
مزید »