خرم سہیل12 ستمبر 2025غزل18382
اشکوں سے عیاں درد کے ہونے کی دیر تھی ہلکا یہ دل ہوا، مرے رونے کی دیر تھی
اس سے تو پہلے غم یا خوشی کا نہ تھا وجود مٹی کے بت میں سانس پرونے کی دیر تھی
نا کردہ پ
مزید »کرن ہاشمی05 ستمبر 2025غزل1411
مانگ لائی تھی خدا سے میں ادھارے سپنے ٹوٹتے دیکھ لئے آنکھ کے تارے سپنے
قید آنکھوں میں جو پلکوں کی سلاخوں میں ہیں دیکھ کر تجھ کو رہا کر دوں گی سارے سپنے
اپنی تع
مزید »شائستہ مفتی01 ستمبر 2025غزل3363
دلِ مضطرب تو بھی ہشیار رہنا بھری انجمن میں نہ بے زار رہنا
نہیں شوق غالب ہمیں رت جگوں کا مگر چاند چڑھتے ہی تیار رہنا
نہ جانے کہاں بھولی منزل ملے گی دلِ بے خبر
مزید »خرم سہیل30 اگست 2025غزل1321
فسوں گر کا جادو اثر کر گیا وہ تکنا مرے دل میں گھر کر گیا
نہ جانے اسے بھا گئی کیا ادا جو جاتے ہوئے دل میں در کر گیا
ہوئی مستیِ عشق میں سجدہ ریز جبیں کا یہ سجدہ
مزید »کرن ہاشمی27 اگست 2025غزل0313
وہ دمکتے ہوئے رخسار، مہکتا غازہ دلکشی اور بڑھی اور بڑھی اور بڑھی
اس کی نظروں کے جو پیمانے مقابل ٹھہرے بیخودی اور بڑھی اور بڑھی اور بڑھی
کیسی بے چینیاں بھڑکی ت
مزید »احمد فراز22 اگست 2025غزل0377
نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے کِس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے
ہم کہ دونوں کے گرفتار رہے، جانتے ہیں دامِ دُنیا سے کہیں زُلف کا جال اچھا ہے
میں
مزید »فرحت عباس شاہ10 اگست 2025غزل0272
تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد
اتنے چپ چاپ کہ رستے بھی رہیں گے لا علم چھوڑ جائیں گے کسی روز نگر شام کے بعد
میں
مزید »خرم سہیل26 جولائی 2025غزل18370
کب یہ چاہا تھا شب غم میں بسر ہو جائے اب کسی طور مرے غم کی سحر ہو جائے
جلوہِ یار کو ترسی ہیں نگاہیں کب سے کیا ہو گر میری دعاوں میں اثر ہو جائے
شب بیداری میں کر
مزید »کرن ہاشمی21 جولائی 2025غزل0357
زخم دینا ہے اُس کی فطرت میں درد مہکے ہیں اس کی الفت میں
جانے والا بھی ایسا بچھڑا ہے چھوڑ آیا ہے خود کو عجلت میں
خود شناسی ہوئی ہے دوری سے میں تو کھوئی تھی تیر
مزید »خرم سہیل19 جولائی 2025غزل0406
ڈھونڈا مگر میں خود کو کہیں پر نہیں ملا مجھ کو سکوں کہیں بھی زمیں پر نہیں ملا
ویسے تو مانتے ہیں تجھے یہ زباں سے ایک لیکن مجھے تو ایک بھی دیں پر نہیں ملا
جو دل
مزید »