فرحت عباس شاہ01 ستمبر 2024غزل0351
سامنے ظلم کے ڈٹ کر جو کھڑا آدمی ہے جبر کی رات کے سینے میں گڑا آدمی ہے
جھوٹ اور ظلم و ستم، حرص و ہوس، مکاری ساری کی ساری بلاوں سے لڑا آدمی ہے
خالقِ کون و مکاں
مزید »آغر ندیم سحر31 اگست 2024غزل0266
مختصر سی مری کہانی ہے دل میں چاہت تری پرانی ہے
میں جو ہنستا ہوں سانس لیتا ہوں تیری چاہت ہے مہربانی ہے
تو نے جاتے سمے جو درد دیا وہ تری آخری نشانی ہے
یہ رقیبو
مزید »کرن ہاشمی29 اگست 2024غزل0352
جو رگ و پے میں رواں جوشِ لہو ہے تو ہے دل دھڑکتا ہے جو سینے میں وہ تو ہے تو ہے
تو مرے سانس کی تسبیح عبادت ہے مری جو مرے عشق میں آنکھوں کا وضو ہے تو ہے
لاکھ ہوت
مزید »شاہد کمال29 اگست 2024غزل0326
روز اک طرز پہ ایجاد کئے جائیں گے پھرترےنام سے ہم یاد کئےجائیں گے
بال و پر دیکھ رہیں جو بڑی حسرت سے وہ پرندے بھی تو آزاد کئے جائیں گے
ہم مہاجر نہیں جنت سے نکال
مزید »آغر ندیم سحر28 اگست 2024غزل0314
مری منزل کو جو گہنا رہی ہے کسی کی یاد آڑے آ رہی ہے
اثر اس کی محبت کا ہے شاید مجھے ہر سانس اب تڑپا رہی ہے
گرے گی برق جانے کس کے گھر پر جو پیچ و تاب اتنے کھا رہ
مزید »فرحت عباس شاہ26 اگست 2024غزل03706
اسی سے جان گیا میں کہ بخت ڈھلنے لگے میں تھک کے چھاؤں میں بیٹھا تو پیڑ چلنے لگے
میں دے رہا تھا سہارے تو اک ہجوم میں تھا جو گر پڑا تو سبھی راستہ بدلنے لگے
نہ ما
مزید »آغر ندیم سحر25 اگست 2024غزل23325
ایک مدت تک وفا کی جستجو کرتے رہے ہم شب ہجراں اسی سے گفتگو کرتے رہے
جن کی خاطر وقف تھے شام و سحر، صد حیف ہے میری شہرت کو وہی بے آبرو کرتے رہے
تیرے چہرے کی تلاو
مزید »فرحت عباس شاہ24 اگست 2024غزل0258
دیکھ لو ٹوٹ بکھرتی ہوئی عظمت اِن کی ہم نے چپ چاپ سہی روح پہ نفرت جِن کی
بند ہوتے ہوئے دروازوں پہ جا کُھلتی ہے ناگہانی میں گزاری ہوئی عُجلت سِن کی
امن کے قصے س
مزید »فرحت عباس شاہ17 اگست 2024غزل0370
کھونے نہیں دیا ہے جسے مِل نہیں رہا گہرا نہیں ہے زخم مگر سِل نہیں رہا
ایسا نہیں کہ حُسن مجھے کھینچتا نہیں ایسا نہیں کہ سینے میں اب دل نہیں رہا
اس نے کہا دکھائی
مزید »فرحت عباس شاہ10 جولائی 2024غزل0443
دُعا گرفت میں ہے بد دُعا گرفت میں ہے کوئی تو بولو کہ خلقِ خدا گرفت میں ہے
بجائے گھٹنے کے بڑھنے لگا ہے استحصال اناج پہلے سے تھا، اب ہوا گرفت میں ہے
سمجھ کے خود
مزید »