جو اِن دنوں مری باتوں کا ڈھنگ ہے پیارے

Test 2

جو اِن دنوں مری باتوں کا ڈھنگ ہے پیارےسب اس میں تری محبت کا رنگ ہے پیارےمیں اپنے دل کی ہر اک بات تجھ سے کہہ دیتامری زباں پہ کوئی حرفِ سنگ ہے پیارےسب آرزوؤں کے

مزید »

اپنی تنہائی کا سامان اُٹھا لائے ہیں

Test 2

اپنی تنہائی کا سامان اُٹھا لائے ہیںآج ہم میرؔ کا دیوان اُٹھا لائے ہیںاِن دنوں اپنی بھی وحشت کا عجب عالم ہےگھر میں ہم دشت و بیابان اُٹھا لائے ہیںوسعت حلقہ زنجیر

مزید »

تم کو پایا نہیں مگر پھر بھی

Test 2

تم کو پایا نہیں مگر پھر بھیاب تمنا نہیں مگر پھر بھیدل کا نقصان ہو بھی سکتا ھےزخم گہرا نہیں مگر پھر بھیوہ بھی آئے کبھی منائے مجھےیہ تقاضا نہیں مگر پھر بھیجو مرے

مزید »

بہ حرف صورتِ انکار توڑ دی میں نے

Test 2

بہ حرف صورتِ انکار توڑ دی میں نےدلوں کے بیچ کی دیوار توڑ دی میں نےصدائے نالۂ بے اختیار سے اپنےترے سکوت کی رفتار توڑ دی میں نےاس عاجزی سے کیا اُس نے میرے سَر کا

مزید »

موم کے خواب کو تکیے پہ پگھلتے دیکھا

Test 2

موم کے خواب کو تکیے پہ پگھلتے دیکھاسالِ نو میں نے تری یاد میں جلتے دیکھالوگ جاگے تھے نیا سال منانے کے لیےمیں نے پلکوں پہ چراغوں کو مچلتے دیکھااُس نے بس اتنا کہا

مزید »

عشق کرنے کے لیے میں نے سمندر دیکھا

Test 2

عشق کرنے کے لیے میں نے سمندر دیکھاپھر نیا خواب نئے خواب کے اندر دیکھاورنہ آنکھوں میں دھواں،دل میں کسک رہ جاتیاُس نے اچھا ہی کیا مجھکو پلٹ کر دیکھاخود میں گُم،لو

مزید »

شکستہ جسم دریدہ جبین کی جانب

Test 2

شکستہ جسم دریدہ جبین کی جانبکبھی تو دیکھ مرے ہم نشین کی جانبمیں اپنا زخم دکھاوں تجھے کہ میں دیکھوںلہو میں . ڈوبی ہوئی آستین کی جانبان آسمان مزاجوں سے ہے بلا کا

مزید »

آنکھیں بھی زلف بھی لب و رخسار مست ہیں

Test 2

آنکھیں بھی زلف بھی لب و رخسار مست ہیںسب ساکنانِ کوچۂ دلدار مست ہیںگل کیا قفس کے سب در و دیوار مست ہیںوہ موجِ رنگ ہے کہ گرفتار مست ہیںسہمے ہوئے ہیں لوگ اندھیرو

مزید »

پھر آج درد سے روشن ہوا ہے سینہ خواب

Test 2

پھر آج درد سے روشن ہوا ہے سینہ خوابسجا ہوا ہے مرے زخم سے مدینہ خوابخزاں کی فصل میں جو رزقِ وحشتِ شب تھالٹا رہا ہوں سرِ شب وہی خزینہ خوابمسافرانِ شبِ غم تمہاری

مزید »

کوزہ درد میں خوشیوں کے سمندر رکھ دے

Test 2

کوزہ درد میں خوشیوں کے سمندر رکھ دےاپنے ہونٹوں کو مرے زخم کے اوپر رکھ دےاتنی وحشت ہے کہ سینے میں الجھتا ہے یہ دلاے شب غم تو مرے سینے پہ, پتھر رکھ دےسوچتا کیا ہے

مزید »