اس ریگ زارِ زیست کا عنصر نہیں ہوں میںشائستہ مفتی19 اکتوبر 2024غزل0398اس ریگ زارِ زیست کا عنصر نہیں ہوں میں اک خواب ہوں کہیں بھی مکرر نہیں ہوں میں اک سوچ کا ثمر ہوں جو بکھری ہوں چار سو کہنے کو آفتاب کا منظر نہیں ہوں میں وادی میںمزید »
گھر لوٹ کے جائیں گے تو پائیں گے اماں بھیشائستہ مفتی15 اکتوبر 2024غزل0308گھر لوٹ کے جائیں گے تو پائیں گے اماں بھی آنکھوں کی تھکن کرنے لگی راز عیاں بھی یوں دل نہ بہاروں سے لگاؤ کہ سنا ہے رستے میں محبت کے ہے اک عہدِ خزاں بھی گر تجھ سمزید »
تو جسے چھو کے گزر جائے امر ہو جائےشائستہ مفتی12 اکتوبر 2024غزل0291تو جسے چھو کے گزر جائے امر ہو جائے قریۂ دل کے مسافر کو خبر ہو جائے یوں سرِبام ہی ٹوٹے گا ستاروں کا فسوں میری پلکوں کا جو تارا ہے قمر ہو جائے اک سفر ہے کہ جو دمزید »
جو جھوٹ موٹ نہیں ہیں قلم اٹھائے ہوئےفرحت عباس شاہ10 اکتوبر 2024غزل0319جو جھوٹ موٹ نہیں ہیں قلم اٹھائے ہوئے گھروں سے آئیں گے باہر علم اٹھائے ہوئے ہمارے میں سے جو شاعر نہیں جگاڑئیے ہیں وہ ہرجگہ پہ ملیں گے رقم اٹھائے ہوئے ہیں ایک آمزید »
کتنے ارمان سجائے رہا ماں باپ کا گھرشائستہ مفتی05 اکتوبر 2024غزل0408کتنے ارمان سجائے رہا ماں باپ کا گھر اپنے دامن میں چھپائے رہا ماں باپ کا گھر وہ گلی اور محلہ میرے بچپن کا سکوں میرے دکھ درد اٹھائے رہا ماں باپ کا گھر جب بھی مامزید »
شہرِ دل تیرے خرابوں کی یہ تقدیر نہیںشائستہ مفتی02 اکتوبر 2024غزل0314شہرِ دل تیرے خرابوں کی یہ تقدیر نہیں بات بن جائے کسی طور بھی تدبیر نہیں چارہ گر تیری نوازش، ترا احسان مگر زخم بھر جائیں جو اس دل کے وہ اکسیر نہیں آج پھر تیر بمزید »
منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کااحمد فراز26 ستمبر 2024غزل0403منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا کیسے پایمزید »
تقدیر کے لکھے کو تو دھویا نہیں جاتاکرن ہاشمی25 ستمبر 2024غزل0425تقدیر کے لکھے کو تو دھویا نہیں جاتا غم حد سے زیادہ ہو تو رویا نہیں جاتا مت پوچھیے بیتے ہوئے لمحوں کی کہانی ہر درد تو پلکوں میں پرویا نہیں جاتا دن بھر تو تِری مزید »
بھوک انسان کا کردار بدل دیتی ہےفرحت عباس شاہ14 ستمبر 2024غزل0508بھوک انسان کا کردار بدل دیتی ہے سر وہی رہتا ہے دیوار بدل دیتی ہے وہ بھی سرکار ہی ہے جو کسی وقفے کے بغیر جب ضرورت پڑے سرکار بدل دیتی ہے روح کا رشتہ بھی ہوتا ہےمزید »
بجھتے ہوئے چراغ کی وحشت میں کاٹ دیآغر ندیم سحر12 ستمبر 2024غزل0365بجھتے ہوئے چراغ کی وحشت میں کاٹ دی ہم نے شب حیات اذیت میں کاٹ دی رخصت کے وقت آپ کو جلدی تھی کس قدر یعنی ہماری بات بھی عجلت میں کاٹ دی تیرے بغیر زیست گزرنا محامزید »