پھر کوئی دست خوش آزار مجھے کھینچتا ہے

Shahid Kamal

پھر کوئی دست خوش آزار مجھے کھینچتا ہےجذبہ عشق سرِ دار مجھے کھینچتا ہےمیں محبت کے مضافات کا باشندہ ہوںکیوں ترا شہرِ پُر اسرار مجھے کھینچتا ہےیہ بھی حیرت ہے عجب،

مزید »

عاشقی راستے میں چھوڑ گیٔ

Fakhira Batool

عاشقی راستے میں چھوڑ گیٔبےکلی راستے میں چھوڑ گیٔتیرگی نے دیا ھے ساتھ سداروشنی راستے میں چھوڑ گئھم ترے بعد جی تو لیتے مگرزندگی راستے میں چھوڑ گئدل کی اُسکو خبر س

مزید »

جواب جو بھی ھو ھم نے سوال کر تو دیا

Fakhira Batool

جواب جو بھی ھو ھم نے سوال کر تو دیاوفا کے دشت میں خود کو ، مثال کر تو دیاوفا کا اور کوئی کیا ثبوت دیں کہ تمھیں ؟خود اپنے ہاتھ سے دل کو، نکال کر تو دیااب ھمکو دی

مزید »

چشمِ صحرائی سے باتیں کرتے ہیں

Shahid Kamal

چشمِ صحرائی سے باتیں کرتے ہیںسورج بینائی سے باتیں کرتے ہیںشب کی رعنائی سے باتیں کرتے ہیںآؤ تنہائی سے باتیں کرتے ہیںجانے کیوں اب شام ڈھلے یہ دیدۂ و دلوحشت آر

مزید »

کیا کرتے کہ اقرار کی صورت بھی نہیں تھی

Shahid Kamal

کیا کرتے کہ اقرار کی صورت بھی نہیں تھیہم کرتے جو انکار یہ جرأت بھی نہیں تھیرویا ہوں بہت دیر تلک تجھ سے بچھڑ کرمجھ کو تو مگر تجھ سے محبت بھی نہیں تھیوہ دن بھی ع

مزید »

دل کی ساری کتاب لکھ دیتے

Fakhira Batool

دل کی ساری کتاب لکھ دیتےعشق خانہ خراب لکھ دیتےمجھ پہ لکھنا غزل کٹھن ھے اگرتم فقط " ماہتاب " لکھ دیتےحالِ دل لب پہ آ سکا نہ اگرکاغذوں پر جناب لکھ دیتےبھیجنے میں

مزید »

جو اِن دنوں مری باتوں کا ڈھنگ ہے پیارے

Shahid Kamal

جو اِن دنوں مری باتوں کا ڈھنگ ہے پیارےسب اس میں تری محبت کا رنگ ہے پیارےمیں اپنے دل کی ہر اک بات تجھ سے کہہ دیتامری زباں پہ کوئی حرفِ سنگ ہے پیارےسب آرزوؤں کے

مزید »

اپنی تنہائی کا سامان اُٹھا لائے ہیں

Shahid Kamal

اپنی تنہائی کا سامان اُٹھا لائے ہیںآج ہم میرؔ کا دیوان اُٹھا لائے ہیںاِن دنوں اپنی بھی وحشت کا عجب عالم ہےگھر میں ہم دشت و بیابان اُٹھا لائے ہیںوسعت حلقہ زنجیر

مزید »

تم کو پایا نہیں مگر پھر بھی

Fakhira Batool

تم کو پایا نہیں مگر پھر بھیاب تمنا نہیں مگر پھر بھیدل کا نقصان ہو بھی سکتا ھےزخم گہرا نہیں مگر پھر بھیوہ بھی آئے کبھی منائے مجھےیہ تقاضا نہیں مگر پھر بھیجو مرے

مزید »

بہ حرف صورتِ انکار توڑ دی میں نے

Shahid Kamal

بہ حرف صورتِ انکار توڑ دی میں نےدلوں کے بیچ کی دیوار توڑ دی میں نےصدائے نالۂ بے اختیار سے اپنےترے سکوت کی رفتار توڑ دی میں نےاس عاجزی سے کیا اُس نے میرے سَر کا

مزید »