سنتے ہیں اُس کی نیند ہے، راتیں چراغ کیشائستہ مفتی18 جون 2025غزل28446سنتے ہیں اُس کی نیند ہے، راتیں چراغ کی منظر بھی خواب ناک ہے، باتیں ایاغ کی موسیٰ کی طرح کون عصا لے کے آ گیا جادو کمال ہے تو بصیرت دماغ کی چڑھتے ہیں ہم بمزید »
نہ کوئی قطب نہ ابدال نظر آئے مجھےخرم سہیل11 جون 2025غزل0445نہ کوئی قطب نہ ابدال نظر آئے مجھے ہر طرف جھوٹ کے قوال نظر آئے مجھے میں ولی ہوں نہ قلندر نہ کوئی پیر میاں دیکھ کر کل یہ ترا حال نظر آئے مجھے ہضم ہوتا ہی نہیں پمزید »
بارش تھمی تو کھل گئے اسرارِ آگہیشائستہ مفتی11 جون 2025غزل0330بارش تھمی تو کھل گئے اسرارِ آگہی رنگینیوں میں قید تھے افکارِ آگہی کیا کچھ نہ ہم سے کہہ گئی صر صر کی گفتگو غنچہ کھلا تو کھل گیا گلزارِ آگہی باطل ہوا خیال مزید »
مجھ کو تیری وفا اب نہیں چاہیےشائستہ مفتی04 جون 2025غزل0492مجھ کو تیری وفا اب نہیں چاہیے زخمِ دل کی دوا اب نہیں چاہیے عمر بھر کے لیے جو ترستی رہی اس زمیں کو گھٹا اب نہیں چاہئے مجھ کو صحرا نوردی ہی راس آئی ہے منزلوں کامزید »
حجابِ شب میں تب و تابِ خواب رکھتا ہےافتخار عارف29 مئی 2025غزل0546حجابِ شب میں تب و تابِ خواب رکھتا ہے درُونِ خواب ہزار آفتاب رکھتا ہے کبھی خزاں میں کھلاتا ہے رنگ رنگ کے پھول کبھی بہار کو بے رنگ و آب رکھتا ہے کبھی زمین کا منمزید »
صحرا کی ریت راستہ دکھلا گئی مجھےشائستہ مفتی26 اپریل 2025غزل0362صحرا کی ریت راستہ دکھلا گئی مجھے خوشبو سا اک سراب تھا مہکا گئی مجھے ٹھنڈی ہوا کا لمس تھا، اک یاد کی تھکن میں سو گئی تھی خواب میں چونکا گئی مجھے پھولوں کی مزید »
ہم نے تقدیر کو پابندِ سلاسل باندھاشائستہ مفتی19 اپریل 2025غزل0369ہم نے تقدیر کو پابندِ سلاسل باندھا جانے کیا سوچ کہ اس دل سے ترا دل باندھا پھر شبِ ہجر کریں، گلیوں میں شب بھر گھومیں ایک آواز کے ہمراہ جو سائل باندھا کیا وہ جامزید »
بات نکلی ہے جو زباں سے ابکرن ہاشمی08 اپریل 2025غزل0390بات نکلی ہے جو زباں سے اب تیر چُھوٹا ہے اک کماں سے اب تیری نظروں میں عیب ہیں سارے کیا ہے پنہاں ترے گماں سے اب جانے بھٹکیں گے وہ کہاں سب ہی پنچھی بچھڑے ہیں آشیمزید »
ساعت وصل میں بس، یہی نیکو کاری ہےسید محمد زاہد07 اپریل 2025غزل0391ساعت وصل میں بس، یہی نیکو کاری ہے کار محبت اور بڑھاؤ، بہت بے قراری ہے اک لمحہ ہجر کبھی، نصیب ہی نہیں ہوا بدن سے مکالمہ میں، زندگی گذاری ہے کمر کی یہ وادیاں، سمزید »
صدائے دشت ہوں اور راستے میں کوئی نہیںشائستہ مفتی11 فروری 2025غزل0441صدائے دشت ہوں اور راستے میں کوئی نہیں تمھارے بعد مرے رابطے میں کوئی نہیں میں پھول بن کے کھلوں اور پھر بکھر جاؤں کسی کا ہاتھ مرے حادثے میں کوئی نہیں بہار آئے گمزید »