شاہد کمال17 مئی 2019نظم21776
مرا وجود مری روح میری جان ہے ماںغموں کی دھوپ میں خوشیوں کی سائبان ہے ماں
مرے وجود کے لہجے میں گفتگو اس کیمری زمین تخیل پہ آسمان ہے ماں
اسی کا لمس حقیقت ہے است
مزید »خالد زاہد15 مارچ 2019نظم111299
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیںموت کا رقص دیکھتے ہیں، خون کی ہولی دیکھتے ہیںہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیںچیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہی
مزید »حماد حسن21 فروری 2019نظم11545
وھاں میں دیکھ آیا تھا گلابی موسموں کی دھوپ کا آنچل
جو پائن کے درختوں میں الجھتا تھا تو ہر سو شام کی پریاں
سر دھلیز شب ان کا نظارہ دیکھنے رکتیں
کہ اس منظرکو آ
مزید »حماد حسن11 فروری 2019نظم11329
سو اب یہ حکم آیا ہے کہ اس بے فیض موسم
بے اماں صحرا میں رھنا ہے سلگتی دھوپ اور بنجر پہاڑوں کو
شبستاں کی طرح جنت کی مانند ھی سمجھناھے
کمیں گاھوں میں بیٹھے قاتل
مزید »فاخرہ بتول05 دسمبر 2018نظم31600
دسمبر اب کے آؤ تو۔ تم اُس شہرِ تمنا کی خبر لانا
کہ جس میں جگنوؤں کی کہکشائیں جھلملاتی ہیں جہاں تتلی کے رنگوں سے فضائیں مسکراتی ہیں
وہاں چاروں طرف خوشبو وفا کی
مزید »بابا جیونا30 نومبر 2018نظم11644
رونا مٹی ہاسے مٹیبندیا چارے پاسے مٹی
لیکھ نصیب غرور وی مٹیعاجز تے مغرور وی مٹی
ایس مٹی دے دشمن مٹیسجن بیلی یار وی مٹی
شاہ سلطان جہان وی مٹیڈنگر تے انسان وی م
مزید »خالد زاہد26 جون 2018نظم11669
کمرے کی میز پررکھا ہوا
کانچ کا اک خوبصورت گلدان
ادھ کھلی کھڑکی سے آنے والے
ہواکے تیز جھونکے کی زد میں آکر
گلدان کا میز پر سے گرنا
ایک چھنناکے کی آواز کا اب
مزید »فاخرہ بتول17 اپریل 2018نظم12970
مہاجر ہوں میں ہجرت کی ڈگر میں ہوں میں صدیوں سے سفر میں ہوں
مگر دھرتی گواہ بن کر بتائے گی کہ اِس کی سوندھی مٹی میں
مرے اجداد کا بھی خوں مہکتا ہے جو اِس کی مانگ
مزید »فاخرہ بتول20 فروری 2018نظم191488
مسلمانو! چلو ھم کچھ نہیں کہتے بتاؤ تو وہ کس کا گھر تھا اور وہ کس نےجلایا تھا؟
بتاؤ کون تھا جس نے، محمٌد ﷺ کی۔ بہت ہی لاڈلی بیٹی کی چادر کو لہو جیسا بنایا تھا؟
مزید »فاخرہ بتول26 جنوری 2018نظم211370
میں ماں ہوں علم ہے مجھ کو مرا بچہ۔
مجھے کب، کیوں بُلاتا ہے؟ رُلاتی ہے اسے کیا بات
کس پل مسکراتا ہے؟ وہ کب آرام کرتا ہے
وہ کیسے کھلکھلاتا ہے؟ میں ماں ہوں، علم
مزید »