فاخرہ بتول26 جنوری 2018نظم241438
میں ماں ہوں علم ہے مجھ کو مرا بچہ۔
مجھے کب، کیوں بُلاتا ہے؟ رُلاتی ہے اسے کیا بات
کس پل مسکراتا ہے؟ وہ کب آرام کرتا ہے
وہ کیسے کھلکھلاتا ہے؟ میں ماں ہوں، علم
مزید »فاخرہ بتول14 دسمبر 2017نظم01154
یہ ہوتی ہے۔۔ تو ہوتی ہے نہیں ہوتی تو۔۔ جتنا بھی جتن کر لو، نہیں ہوتی
۔۔ کوئی اچھا اگر لگ جائے تو ۔۔ سب خامیاں اُسکی
اچانک، خوبیوں کی اوڑھنی میں چُھپ سی جاتی ہ
مزید »فاخرہ بتول13 دسمبر 2017نظم01258
بھولی بھالی ناری سُن لے۔ چنچل نین کٹورے تیرے، گال گُلابی کورے تیرے
ہونٹوں پر اِک نٹ کھٹ لالی ناگن زُلف ہے کالی کالی
ماتھے پر بندیا چمکیلی چال تری ہے چھیل چھبی
مزید »فاخرہ بتول07 دسمبر 2017نظم11596
لیلیٰ کے پاؤں میں سُرخ گلاب مہکتا۔ سسک رہا ہے
آبلوں میں صدیوں کی کہانی آنکھوں میں گہرا سنٌاٹا۔
ہُو کا عالم شام گھنیری۔
رم جھم اوس میں بھیگی پلکیں۔ چیتھڑے تن
مزید »فاخرہ بتول28 نومبر 2017نظم01220
میں سیتا ہوں تُو رام سہی مرا جیون تیرے نام سہی
ماتھے کی یہ بندیا چمکیلی ہونٹوں کی یہ لالی شرمیلی
یہ زُلف نہیں، یہ شام سہی مرا جیون تیرے نام سہی
آ ماتھے پر سی
مزید »فاخرہ بتول16 نومبر 2017نظم01051
ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺟﺬﺑﮯ ﺳﻠﮓ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯿﮕﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺟﮕﺮ ﮐﮯ ﭼﮭﺎﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﭗ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﻠﮯ ﮨﻮؤﮞ ﮐﻮ ﺟﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﺎ۔۔
مزید »شاہد کمال31 اکتوبر 2017نظم01153
ہمارے شاعر خونین ںوااے ہمارے سوز و ساز و ہمنوامجھے اس حالت میں دیکھ کرتمہاری روح فشار آگہی کے عذاب میں مبتلا ہوگیتم مجھے یوں دیکھ کر غمگین کیوں ہوتمہاری دجلہ چش
مزید »فاخرہ بتول30 اکتوبر 2017نظم01071
کوئی کتنا جتن کر لے محبت کم نہیں ہوتی زمانہ اِس کے آگے آہنی دیوار بن جائے
اور اُس کا ہاتھ اِک تلوار بن جائے محبت ڈر نہیں سکتی ڈرانے سے
نہیں مٹتی مٹانے سے محبت
مزید »شاہد کمال16 ستمبر 2017نظم01051
کُنجِ دل میں ہے جو ملال اُچھالروشنی کے کنول اُچھال ، اُچھالڈھال تُو اپنے مہر و ماہ و نجومدن اُچھال اپنے ماہ و سال اُچھالبے سپر ہے یہ میری تنہائیاے مری جان اپنی
مزید »فاخرہ بتول12 ستمبر 2017نظم01722
چلو ساحل پہ جاکر اپنی پلکوں سے۔ سنہرا جال بُنتے ہیں
سمندر میں اُتر کر۔ سیپیوں سے کچھ سُریلے تال بُنتے ہیں
چلو اب اُنگلیوں کی نرم پوروں سے۔ ذرا خوشبو کو چُنتے
مزید »