1. ہوم/
  2. نظم/
  3. صفحہ 2

رستی ہوئی سسکیاں!

خالد زاہد

بند دروازوں اور کھڑکیوں سے رستی ہوئی سسکیاںیہاں سیکڑوں میل دور سماعتوں پر دستک دے رہی ہیںسسکیاں جب شور کی صورت اختیار کرلینگیتویہ سارے بند کھڑکیاں اور دروازے تو

مزید »

ماں

شاہد کمال

مرا وجود مری روح میری جان ہے ماںغموں کی دھوپ میں خوشیوں کی سائبان ہے ماں مرے وجود کے لہجے میں گفتگو اس کیمری زمین تخیل پہ آسمان ہے ماں اسی کا لمس حقیقت ہے است

مزید »

کشمیر کا نوحہ

خالد زاہد

چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیںموت کا رقص دیکھتے ہیں، خون کی ہولی دیکھتے ہیںہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیںچیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہی

مزید »

عفریت

حماد حسن

وھاں میں دیکھ آیا تھا گلابی موسموں کی دھوپ کا آنچلجو پائن کے درختوں میں الجھتا تھاتو ہر سو شام کی پریاں سر دھلیز شب ان کا نظارہ دیکھنے رکتیںکہاس منظرکو آگے منتق

مزید »

حکم نامہ

حماد حسن

سو اب یہ حکم آیا ھےکہ اس بے فیض موسمبے اماں صحرا میں رھنا ھےسلگتی دھوپ اور بنجر پہاڑوں کوشبستاں کی طرحجنت کی مانند ھی سمجھناھےکمیں گاھوں میں بیٹھے قاتلوںکو بھی

مزید »

دسمبر اب کے آؤ تو

فاخرہ بتول

دسمبر اب کے آؤ تو، تم اُس شہرِ تمنا کی خبر لانا کہ جس میں جگنوؤں کی کہکشائیں جھلملاتی ہیں جہاں تتلی کے رنگوں سے فضائیں مسکراتی ہیں وہاں چاروں طرف خوشب

مزید »

رونا مٹی ہاسے مٹی

بابا جیونا

رونا مٹی ہاسے مٹیبندیا چارے پاسے مٹی لیکھ نصیب غرور وی مٹیعاجز تے مغرور وی مٹی ایس مٹی دے دشمن مٹیسجن بیلی یار وی مٹی شاہ سلطان جہان وی مٹیڈنگر تے انسان وی م

مزید »

ہم اور کانچ کا گلدان

خالد زاہد

کمرے کی میز پررکھا ہوا کانچ کا اک خوبصورت گلدان ادھ کھلی کھڑکی سے آنے والے ہواکے تیز جھونکے کی زد میں آکر گلدان کا میز پر سے گرنا ایک چھنناکے کی آواز کا اب

مزید »

مہاجر اب نہیں کوئی !

فاخرہ بتول

مہاجر ہوں میں ہجرت کی ڈگر میں ہوں میں صدیوں سے سفر میں ہوں مگر دھرتی گواہ بن کر بتائے گی کہ اِس کی سوندھی مٹی میں مرے اجداد کا بھی خوں مہکتا ھے جو اِس کی م

مزید »