علی رضا احمد02 فروری 2026غزل11059
پتلے ہم حسرتوں کے جلائے چلے گئے دامن بھی تار تار دکھائے چلے گئے
محفل میں کب وہ آئے تھے اور کب چلے گئے قسمیں ہم ان کے آنے کی کھائے چلے گئے
صحرا میں ان کو ڈھونڈ
مزید »علی رضا احمد27 جنوری 2026غزل11257
کوئی ایسا نوعِ انسانی میں ہے جس کی شہرت چاک دامانی میں ہے
بات کیسے کوئی سمجھائے اسے اور یہ قصّہ میرا سُریانی میں ہے
دیکھتے ہیں اب یہ رکتی ہے کہاں ناؤ جیون کی
مزید »علی رضا احمد17 دسمبر 2025غزل1993
ہم پہ ہے گر یار اپنا مہرباں کون آئے گا بے چارہ درمیاں
ہے وہی محبوبِ فطرت بے مثل جس کے سینے میں ہے اک قلبِ تپاں
اپنے رب سے مانگ ذرہ عشق کا مانگ لیکن ساتھ ہی رب
مزید »علی رضا احمد14 دسمبر 2025غزل1755
گزر جاتے ہو تم تیزی سے اب جانے نہیں دیں گے افق کے سرخ ماتھے پر شکن آنے نہیں دیں گے
بھلے اس میں چھپا ہے اپنا ماضی اور مستقبل پھڑکتی دھڑکنوں کو کچھ نیا بھانے نہی
مزید »علی رضا احمد23 نومبر 2025غزل121530
بھلے میری آنکھیں وہ تر کر گیا ہے مگر دل میں میرے وہ گھر کر گیا ہے
مرا خط تھا اور پھر تھما کے عدو کو یہ کیسی خطا نامہ بر کر گیا ہے
چلو میرے بھائی غزہ کی طرف بھ
مزید »علی رضا احمد15 نومبر 2025غزل51222
رگڑتے رہے ایڑیاں جیسے جیسے وہ کستے گئے بیڑیاں جیسے جیسے
بھرا رہتا ہے اس کا دامن بھی ہر دم لٹاتا ہے وہ جھولیاں جیسے جیسے
زباں پر بنے سنورے آتے ہیں جملے نکھرتا
مزید »علی رضا احمد09 نومبر 2025غزل1678
پہلے اِک شاہ کا دیوان بنے آج ہم اپنے ہی مہمان بنے
تیری حرمت ہی کی خاطر ہم تو ہر کسی جنگ کا میدان بنے
چھوڑ آئے تھے اُنہیں شہروں میں دل کے جنگل جبھی سنسان بنے
مزید »علی رضا احمد31 اکتوبر 2025غزل35774
جو ہوا شمعِ سحر پر اب ہے بَرہم وہ شناسا تھی اُسی کی لُو سے باہم
اک دیے کا حبسِ بے جا میں گُھٹا دم اب بچھائے گا دھواں بھی فرشِ ماتم
وصل کی جس شب میں راحت بھی ت
مزید »علی رضا احمد28 اکتوبر 2025غزل1727
بس وہی ہوتا ہے جو مقدور ہے ہو فرشتہ بھی مگر مجبور ہے
لا ابالی پن میں یہ مخمور ہے غیر واضع دل کا جو منشور ہے
عشق کر سکتے نہیں کم ظرف لوگ عشق تو ان کی پہنچ سے د
مزید »علی رضا احمد21 اکتوبر 2025غزل11422
کون آیا ہے شبِ غم میں ستانے کے لئے نیند خود ہی آ گئی مجھ کو جگانے کے لئے
تیرا جانا جانِ جاناں وہ گراں گزرا مجھے ایک دفعہ لوٹ کے آ پھر سے جانے کے لئے
ان میں سر
مزید »