صائمہ عروج24 جون 2017غزل0910
اے دل بے تاب! یہ سبزہ زار زندگی تو پر کشش ہے لیکن ہے تو کہاں؟ کیوں غم تیری روش ہے؟
برستی بارش میں بھیگ کر احساس درد نکھر گیا ہے یا تصور میں ترے غرقاب محبت مرتع
مزید »شاہد کمال20 جون 2017غزل0697
فکرِ ایجاد میں ہوں کھول نیا در کوئیکنجِ گل بھیج مری شاخِ ہنر پر کوئی
رنگ کچھ اور نچوڑیں گے لہو سے اپنےپھر تراشیں گے ہم اک اور نیا پیکر کوئی
کیا ہوا اب کہ سفر
مزید »صائمہ عروج15 جون 2017غزل0934
دل نے دیکھے ہیں ارادے زیست کے موت بھی اب زندوں میں کہاں آتی ہے
بےبسی ایسی کہ وحشت کا ہے جنگل دشت میں پیاس کو آنسو کی زباں آتی ہے
شکست آرزو ہے اک درد بے خود دا
مزید »اخلاق احمد خان07 جون 2017غزل0855
(مشہور شاعر جون ایلیاہ نے اپنی موت سے ایک دن قبل ایک شعر کہا تھا۔ "جی بہت چاہتا رونے کو ہے" جانے کیا سانحہ ہونے کو ہے" راقم الحروف نے اسی زمین پر مساعی کی ہے)
مزید »فاخرہ بتول24 مئی 2017غزل01103
مقٌدر پھر سے آڑے آ گیا نا؟ دیا خورشید سے ٹکرا گیا نا؟
کہا بھی تھا کہ پلکیں موندنا مت کسی کا خواب پھر چونکا گیا نا؟
بُھلا بیٹھے تھے جسکو تم اچانک پھر اگلے موڑ
مزید »کرن رباب نقوی18 مئی 2017غزل02351
میرے دَرد کا کوئی حل، مُرشد؟ کیوں رہتی ہوں بے کل، مُرشد؟
میری نظریں ڈھونڈتی پھرتی ہیں سُکھ چین کا کوئی پل، مُرشد
میرے سوئے بھاگ جگا ایسے مچ جائے اِک ہلچل، مُر
مزید »کرن رباب نقوی16 مئی 2017غزل01281
نِڈھال پڑے پاتال سجن تُو پُوچھ کبھی تو حال سجن
ہمیں اپنے بس میں کر ہی نا لے تیرے دو نینوں کا جال سجن
سرکار زمانہ دُشمن ہے سُن، چل جائے نا چال سجن
ہر سال کے ج
مزید »شاہد کمال15 مئی 2017غزل0750
وہ جو کہتا ہے وہ نہیں کہتاایسا ہوتا ہے کیا نہیں ہوتا
آج خود مجھ کو مجھ سے ملنا ہےآج میں تجھ سے مل نہیں سکتا
پہلے آباد تھے یہ ویرانےاب یہاں پر کوئی نہیں رہت
مزید »شاہد کمال05 مئی 2017غزل0737
وہ عجب شخص کہ جو جامۂ صد چاک میں تھاخاک ہوکر بھی وہی عرصۂ افلاک میں تھا
شدتِ آتش وحشت سے دھواں اُٹھا ہےکچھ لہو دل کا بھی شاید رگِ خاشاک میں تھا
اپنے ہاتھوں
مزید »سید جعفر شاہ28 اپریل 2017غزل191294
کچھ ایسے وردی والے ہیں جو ہم پر رعب جماتے ہیں کچھ مذہب کے رکھوالے ہیں جو نا حق خون بہاتے ہیں
ہر محنت کش نے ہاتھوں میں اب تھامے سرخ پیھرے ہیں ہاں جاہل لوگ حکومت
مزید »