شائستہ مفتی12 فروری 2024غزل13503
اے دوست تیرے ہاتھ میں دستار دیکھ کردل بجھ گیا ہے آج یہ سنسار دیکھ کر
بادل کی طرح تیر رہا ہے تمام شہرمیں تھم گئی ہوں وقت کی رفتار دیکھ کر
اب کیا گلہ کریں کہ مر
مزید »شائستہ مفتی09 فروری 2024غزل1479
اس جہان گرد کو منظر نہیں بھایا کوئیایسا لگتا ہے کہ آسیب کا سایا کوئی
بوجھ بن جائے مسافر تو اسے جانے دوپاؤں میں وقت کے گرداب کو لایا کوئی
روز و شب ایک تصور میں
مزید »شائستہ مفتی05 فروری 2024غزل10473
بزم میں آئے ہیں امید کے تارے لے کر چاکِ دامان و گریبان کے خسارے لے کر
کیسی وحشت ہے کہ سہمے ہوئے لگتے ہیں خیال بے اماں گزری ہے شب، درد تمھارے لے کر
دل سادہ کہ
مزید »شائستہ مفتی02 فروری 2024غزل18442
فصلِ گل پھر نکھار دے گی مجھےگل نہیں ہیں تو خار دے گی مجھے
ایک عالم سکوت کا عالمزندگی یوں گزار دے گی مجھے
ہائے ناپائیداریِ دنیا بھول جائے گی، مار دے گی مجھے
ڈ
مزید »حامد عتیق سرور30 جنوری 2024غزل1540
جس روز کہہ دیا تھا، "تمہاری ہے زندگی"کب؟ اس کے بعد، ہم نے گزاری ہے زندگی!
تا خاک میں ملا دے، اسے وقت کا غباراس واسطے زمیں پہ اتاری ہے زندگی
اک ہجر تھا کہ جس م
مزید »شائستہ مفتی29 جنوری 2024غزل21483
ظلمتِ شب جو جلائے گی دیا میرے بعدمیرا افسانہ سنائے گی ہوا میرے بعد
خوب ہے قصہء اغراضِ وفاداری کےتم بڑے شوق سے کر لینا جفا میرے بعد
کیوں ہمیں روز دکھاتے ہو جھل
مزید »شائستہ مفتی25 جنوری 2024غزل1431
زندگی کا غرور ٹوٹے گاجب نشاط و سرور ٹوٹے گا
یوں نہ احساس کو گنوا دیجےچاہتوں کا یہ نور ٹوٹے گا
یہ اندھیرا، یہ تیرگی کا سماں اک نہ اک دن ضرور ٹوٹےگا
خامشی ٹوٹن
مزید »حامد عتیق سرور15 جنوری 2024غزل1500
حسن کو یاد تو آیا کہ وہ انمول نہیں عجز کو مصر کا بازار بہت کام آیا
شیخ چپ تھا، کسی آواز نے توڑا ہے جمودجبر میں نعرہء میخوار بہت کام آیا
کارِ ابلیس ہے، اس درجہ
مزید »گل بخشالوی12 جنوری 2024غزل1523
برہنہ پیڑوں کے پتے تلاش کرتا ہوں گئی بہار کے خاکے تلاش کرتا ہوں
غموں کی بحر میں تنکے کا آسرا لے کرمیں حسرتوں کے کنارے تلاش کرتا ہوں
جہاں لُٹا تھا کبھی قافلہ م
مزید »سید علی قاسم13 دسمبر 2023غزل15609
گھر لوٹ کے آ جائے دوبارا اسے کہنا مشکل ہے مرا اب کے گزارا اسے کہنا
ہنستے ہوئے رخسار نکھر آتے ہیں اس کےہنستے ہوئے لگتا ہے وہ پیارا اسے کہنا
وہ رکھ لے وراثت میں
مزید »