سعود عثمانی24 نومبر 2025غزل1196
جو صرف ایک ہے وہ دوسرا بنے گا نہیں خدا بناتے ہو لیکن خدا بنے گا نہیں
یہاں مفاد بدلتے ہیں دھوپ چھاؤں کے ساتھ ترا بنایا ہوا بھی ترا بنے گا نہیں
برا بنا کے تجھے
مزید »علی رضا احمد23 نومبر 2025غزل11341
بھلے میری آنکھیں وہ تر کر گیا ہے مگر دل میں میرے وہ گھر کر گیا ہے
مرا خط تھا اور پھر تھما کے عدو کو یہ کیسی خطا نامہ بر کر گیا ہے
چلو میرے بھائی غزہ کی طرف بھ
مزید »کرن ہاشمی21 نومبر 2025غزل1279
جہاں کی حقیقت ہے خوابوں کا کھیل نظر کا فسوں ہے، سرابوں کا کھیل
یہ دنیا ہے سود و زیاں کی جگہ ہے ہر دن یہاں پر حسابوں کا کھیل
لکیریں ہیں قسمت کی الجھی ہوئیں لکی
مزید »خرم سہیل19 نومبر 2025غزل2207
ملا جواب نہ کوئی گماں سے پوچھ لیا پتہ غموں نے مرا بھی وہاں سے پوچھ لیا
سراغ جب نہ ملا کوئی مرنے والے کو نشاں رقیب کا اس نے کماں سے پوچھ لیا
تلاش تجھ کو کروں گ
مزید »سعود عثمانی17 نومبر 2025غزل9211
نظر کے بھید سب اہلِ نظر سمجھتے ہیں جو بے خبر ہیں، اِنہیں بے خبر سمجھتے ہیں
نہ اُن کی چھاؤں میں برکت، نہ برگ و بار میں فیض وہ خود نمود جو خود کو شجر سمجھتے ہیں
مزید »علی رضا احمد15 نومبر 2025غزل81162
رگڑتے رہے ایڑیاں جیسے جیسے وہ کستے گئے بیڑیاں جیسے جیسے
بھرا رہتا ہے اس کا دامن بھی ہر دم لٹاتا ہے وہ جھولیاں جیسے جیسے
زباں پر بنے سنورے آتے ہیں جملے نکھرتا
مزید »کرن ہاشمی14 نومبر 2025غزل1257
کیسی الجھن یہ سلسلہ کیا ہے دل کے صحرا میں اب ہوا کیا ہے
خواب بکھرے ہیں، رنگ گم سا ہے آنکھ کہتی ہے، ماجرا کیا ہے
کب سے آنسو بہا رہی ہوں میں پر لبوں پر ہے یہ صد
مزید »سعود عثمانی12 نومبر 2025غزل1235
نہالِ خشک سے کیا برگ و بر نکل آئے بہار آئی تو شاخوں کے پر نکل آئے
زمانہ وہ ہے کہ نیکی بھی کرکے ڈرتے رہو نہ جانے خیر سے بھی کیسا شر نکل آئے
نکل تو آئے خوشی کی
مزید »خرم سہیل12 نومبر 2025غزل21223
فراق اس کی عنایت تھا سو قبول کیا الگ یہ بات بچھڑ کر بہت ملول کیا
بُلا تو پاس مرے معجزوں کے منکر کو دکھا قران اسے، رب نے جو نزول کیا
بتا اے خاک کے پتلے تجھے یہ
مزید »علی رضا احمد09 نومبر 2025غزل1635
پہلے اِک شاہ کا دیوان بنے آج ہم اپنے ہی مہمان بنے
تیری حرمت ہی کی خاطر ہم تو ہر کسی جنگ کا میدان بنے
چھوڑ آئے تھے اُنہیں شہروں میں دل کے جنگل جبھی سنسان بنے
مزید »