شہرت افزائی میں اپنی سی مدد کرتے ہیںسعود عثمانی13 مئی 2026غزل0176شہرت افزائی میں اپنی سی مدد کرتے ہیں یہ جو حاسد ہیں یہ اونچا مرا قد کرتے ہیں کسی ماں باپ سے پوچھو کبھی بیٹی کا یہ دکھ دیکھنے والے جسے دیکھ کے رد کرتے ہیں بار مزید »
جو بولا پیار سے اس کو ہی اپنا مان لیاخرم سہیل12 مئی 2026غزل0162جو بولا پیار سے اس کو ہی اپنا مان لیا خسارہ کرکے حقیقت کو ہم نے جان لیا میں کیسے بچتا کہ بچنے کا راستہ ہی نہیں جو تیر حسن نظر اس نے مجھ پہ تان لیا ہر ایک بات مزید »
لبوں پر اب ہے تڑپتی ہوئی آہیں کیسیکرن ہاشمی07 مئی 2026غزل0169لبوں پر اب ہے تڑپتی ہوئی آہیں کیسی اب جو اٹھیں گی تڑپ کر وہ نگاہیں کیسی راہِ الفت میں ضرورت ہی نہیں مشعل کی خود جلاتی ہیں ہمیں تیری نگاہیں کیسی جب مقدر میں ہمزید »
عجب فراق تھا کیفیتِ وصال میں بھیسعود عثمانی06 مئی 2026غزل0191عجب فراق تھا کیفیتِ وصال میں بھی سلگ رہا تھا کوئی زخم اندمال میں بھی ابھی تو آنکھ کھلی بھی نہ تھی کہ در آئے ترے ہی خواب کے منظر ترے خیال میں بھی وہ ایک غم بڑیمزید »
دکھ نہ کر، موسمِ غم ہے یہ بدلنے والاخرم سہیل05 مئی 2026غزل0130دکھ نہ کر، موسمِ غم ہے یہ بدلنے والا رات کی کوکھ سے سورج ہے نکلنے والا قحط ہے آخری دم پر یہ ہوا یوں معلوم سوکھے پیڑوں پے یہ باراں ہے برسنے والا ہو نا امیدِ بہمزید »
کس سہولت سے مری جان بدل سکتا ہےسید علی قاسم03 مئی 2026غزل0157کس سہولت سے مری جان بدل سکتا ہے آدمی عشق کے دوران بدل سکتا ہے جس بھروسے پہ تو آئی ہے محل سے باہر شاہزادی ترا دربان بدل سکتا ہے وہ جسے چاہے اسے اپنے برابر کر لمزید »
اپنے اتنے بھی برے دوستوں حالات نہیںعلی رضا احمد10 اپریل 2026غزل01221اپنے اتنے بھی برے دوستوں حالات نہیں کعبہء دل میں کوئی عُزیٰ منّات نہیں بات بن جاتی بڑی بات تھی لوگوں لیکن بات جو بن نہ سکی ہے تو کوئی بات نہیں یاں رزیلوں کی ہمزید »
سفر کے شوق میں تھا فاصلہ ہی بھول گیاعلی رضا احمد05 اپریل 2026غزل01584سفر کے شوق میں تھا فاصلہ ہی بھول گیا عجیب سحر تھا میں راستہ ہی بھول گیا میں آشنا ہی نہ تھا دشتِ جذب و مستی سے جو پائے ننگ مرا قافلہ ہی بھول گیا بنایا سجدوں سےمزید »
نکہت سحر شبنم کی ہے، نہ صبا کی ہےسید محمد زاہد02 اپریل 2026غزل0205نکہت سحر شبنم کی ہے، نہ صبا کی ہے شب وصل میں بکھری تیری قبا کی ہے چال کا اتھلا ڈھنگ، پاؤں کا لال رنگ اک اک ادا پہ ہم نے زندگی فنا کی ہے برق کوندھی رگ رگ میں، مزید »
پتلے ہم حسرتوں کے جلائے چلے گئےعلی رضا احمد02 فروری 2026غزل11067پتلے ہم حسرتوں کے جلائے چلے گئے دامن بھی تار تار دکھائے چلے گئے محفل میں کب وہ آئے تھے اور کب چلے گئے قسمیں ہم ان کے آنے کی کھائے چلے گئے صحرا میں ان کو ڈھونڈمزید »